Valentine Day Historical Facts,Traditions and Origins In Urdu - Btiwab

Valentine's Day ( Saint Valentine's Day)

ویلنٹائن ڈے 14 فروری کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے، یہ دن محبت کرنے والوں کے لیے بہت 
اہمیت کا حامل ہے۔

ہر سال 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے محبت کے اظہار کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور ویلنٹائن ڈے کے دن محبت کرنے والے آپس میں پھولوں کارڈ چوکلیٹ اور تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں اور اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔

Valentine's Day Historical Facts:

تاریخ میں ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے بہت ساری روایات سامنے آتی ہیں ان روایات میں سب سے مشہور روایت یہ ہے کہ 269 عیسوی میں رومن امپائر گیلاڈس نے اپنے دور حکومت میں اپنی فوج کے اوپر شادی کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔

اس کا خیال تھا کہ میدان جنگ میں غیر شادی شدہ فوجی شادی شدہ فوجیوں سے زیادہ بہتر کارکردگی دیتے ہیں۔

سینٹ ویلنٹائن نامی ایک شخص نے اس ناانصافی کو محسوس کیا اور اس نے نوجوانوں کی خفیہ طور پر شادیاں کروانا شروع کر دیں۔
اور جب یہ بات منظرعام پر آئیں اور رومن امپائر تک پہنچی تو انہوں نے سینٹ ویلنٹائن کو سزائے موت دینے کا حکم دے دیا۔

سینٹ ویلنٹائن کو سزائے موت سے پہلے قید میں رکھا گیا تھا اور کہا جاتا ہے کہ سینٹ ویلنٹائن کو اسی جیل میں جیلر کی اندھی بیٹی سے محبت ہو گئی تھی اور مرنے سے پہلے سینٹ ویلنٹائن میں اپنی محبت کا اظہار ایک خط میں کیا تھا, اور اس لڑکی نے اس کا جواب اس خط پر دستخط کر کے دیا تھا۔

اور پھر چودہ فروری کے دن تین بجے کے ٹائم پر سینٹ ویلنٹائن کو پھانسی دے دی گئی تھی اسی لیے ہر سال 14 فروری کو یہ دن سینٹ ویلنٹائن کی یاد میں محبت کرنے والے دنیا بھر میں مناتے ہیں اور تحائف اور پھولوں کا تبادلہ بھی کرتے ہیں۔

496 اس کی میں پہلی بار سینٹ ویلنٹائن کی یاد میں ویلنٹائن ڈے منایا گیا تھا۔

چودھویں اور پندرہویں صدی میں اس دن کو محبتوں اور رومنٹک دن کے طور پر کے طور پر منایا جانے لگا۔

اٹھارویں صدی تک یہ ایک ایسا موقع بن گئے جس پے پیار کرنے والے لوگ آپس میں پھولوں کا تبادلہ کرنے لگےاور چوکلیٹ اور کارڈ وغیرہ بھیج کر ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کرنے لگے چوکلیٹ اور کارڈ وغیرہ پر دل وغیرہ کے خاکے بنائے جانے لگے۔

انیسویں صدی میں ہاتھ سے لکھے گئے گریٹنگ کارڈز ویلنٹائن کے دن پر بہت اہمیت ہے حامل ثابت ہوئے اور پیار کرنے والے لوگوں نے ان ہاتھ سے لکھے ہوئے کارڈ کا تبادلہ شروع کر دیا۔

اس طرح ویلنٹائن کے دن پھول، چوکلیٹ، کارڈز کا استعمال باقاعدہ طور پر تہوار کی شکل اختیار کر گیا اور محبت کے اظہار اور کس ڈے کے نام سے دنیا بھر م میں ہر سال 14 فروری کو منایا جانے لگا۔

Valentine day Truth story in urdu, history of valentine day, valentine day status
Valentine Day history in urdu


Valentine's Day Celebration Worldwide:

ویلنٹائن ڈے کے دل کی سے بھی ملک میں باضابطہ طور پر چھٹی نہیں منائی جاتی حالانکہ لوتھرن چرچ میں باضابطہ طور پر یہ دعوت کا دن ہے۔

دنیا کے کچھ حصوں میں 6 اور 30 جولائی کو بھی ویلنٹائن ڈے منایا جاتا ہے۔
مختلف ممالک میں اس کے لیے باقاعدہ طور پر تقریبات کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے اور بڑے پیمانے پر اس کو منایا جاتا ہے۔

روایتی تقریبات کے ساتھ ساتھ مختلف جگہ پر یہ دن نہایت ہی دلچسپ طریقوں سے بھی منایا جاتا ہے۔

جیسا کہ جاپان میں صرف خواتین ہی اپنے مرد ساتھیوں کے لئے تحائف، چاکلیٹ اور پھولوں وغیرہ خریدتی ہیں

یہ جاپان کی ویلنٹائن ڈے کے موقع پر روایت ہے
 جس میں صرف خواتین ہی اپنے مرد ساتھیوں کے لئے پھول اور چاکلیٹ پیش کر کے اپنی محبت کا اظہار کرتیں ہیں۔

پھر ٹھیک ایک مہینے بعد یعنی 14 مارچ کو وائٹ ڈے کے نام سے دن منایا جاتا ہے جس میں پھر مرد حضرات اپنی خواتین کے لئے چوکلیٹ پھول اور تحائف خریدتے ہیں
اور اپنی خواتین کو اپنی محبت کے اظہار کے طور پر پیش کرتے ہیں یہ تہوار باضابط طور پر حالیہ دنوں میں شروع ہوا ہے یہ تہوار جاپان، کوریا اور چین میں زیادہ تر منایا جاتا ہے۔

اس کے بعد 14 اپریل کو بلیک ڈے منایا جاتا ہے اس دن کو وہ لوگ مناتے ہیں جن کا کوئی ساتھی نہیں ہوتا اور نا ان کو کسی قسم کا تحائف پیش کیا گیا ہوتا ہے، اور چینی طرز کی سیاہ نوڈلز اور سیاہ چٹنی کے ساتھ کھاتے ہیں۔

مغربی ممالک میں بھی خاص طور پر اس دل کو بڑی اہمیت حاصل ہے اس کو بڑے ہی اہتمام سے منایا جاتا ہے اور اس میں اپنے محبت کرنے والوں کو تحفے اور پھول وغیرہ پیش کرتے ہیں اور اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں اور تقریبات منعقد ہوتی ہیں مغربی ممالک میں ویلنٹائن بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔

ویلنٹائن ڈے برطانیہ میں تحائف اور پھولوں کے تبادلے سے شروع ہوا آج ایک رسم بن چکا ہے۔
نورفولک میں سینٹ ویلنٹائن نامی ایک کردار گھروں کے دروازوں پر دستک دیتا ہے اور بچوں کے لیے تحائف چھوڑ کر جاتا ہے۔  

اسلامی طور پر اس دن کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور نہ ہی اسلامی ممالک میں اس کو اہمیت دی جاتی ہے اور نہ ہی اسلامی ممالک میں اس کو باقاعدہ طور پر منایا جاتا ہے۔

Valentine's Day :

ویلنٹائن ڈے اور اس دن منعقد ہونے والی تقریبات کی تخلیق کے پیچھے تنازعات اور شبہات ہیں۔

کچھ روایات میں اس دن کو قدیم ایتھنز میں ہیرا اور زیوس کی شادی اور لیوپرکس زرخیزی کے دیوتا کے قدیم رومن تہوار بھی شامل ہیں۔

لیوپرکس کے ماننے والے کی روایتی رسم تھی کے وہ بکریوں کو خدا کے حضور قربان کر کے اس کے بعد شراب پی کر بکریوں کی کھال کو لے کر روم کی سڑکوں پر نکل جاتے تھے اور جنسی ملاپ کے لیے نوجوان عورتوں کی تلاش کرتے تھے ان کا یقین تھا کہ ایسا کرنے سے ان عورتوں کا حاملہ ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہو جاتے ہیں اور بچے کی پیدائش آسانی سے ہو گی۔

ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے ایسی بہت ساری قیاس آرائیاں مشہور ہیں، اس لیے واضع نہیں ہے کے ویلنٹائن ڈے کس سے منسوب کیا جاتا ہے۔

یہ خیال کیا جاتا ہے سینٹ ویلنٹائن نامی شخص کی محبت کے لیے دی گئی قربانی کی یاد میں منایا جانے لگا ہے، اور اکثر لوگ اس دن کو موسم بہار سے بھی منسوب کرتے ہیں ان کا خیال ہے کے بہار محبت کا موسم ہے اس لیے اس دن کو پیار کرنے والے مناتے ہیں۔

اس دن کے حوالے سے کہاوت مشہور ہے کے یہ دن جوڑوں کے پیار کرنے اور پھولوں کے کھلنے کا دن ہے۔

اس دن کا اور محبت کا سرپرست سینٹ انتھونی ہے جس کے لئے 13 جون کا دن منایا جاتا ہے۔

یہ ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے اہم معلومات آپ کے ساتھ شیئر کی ہیں امید ہے کہ آپ کو رہنمائی حاصل ہوئی ہو گی۔

شکریہ!

Post a Comment

0 Comments